ٹیڑھا ترچھا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - طرح دار، وضع دار، چھیلا، اکھڑ۔ "ہاں ٹیڑھے ترچھے ہوں گے جس دن بھر میرا بناء غیر ممکن۔"      ( ١٨٨٢ء، تفسیر عفت، ٢٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسماء 'ٹیڑھا اور ترچھا' پر مشتمل مرکب ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں عربی رسم الخط میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٨٢ء میں "تفسیر عفت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طرح دار، وضع دار، چھیلا، اکھڑ۔ "ہاں ٹیڑھے ترچھے ہوں گے جس دن بھر میرا بناء غیر ممکن۔"      ( ١٨٨٢ء، تفسیر عفت، ٢٦ )